نئی دہلی، 28؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی بارڈر پر تینوں کالے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو ایک مہینہ ہوگیا ہے۔ حکومت اور کسانوں کے مابین مذاکرات کے کئی دور اب تک بے نتیجہ رہے ہیں۔
بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ حکومت کو ضد نہیںکرنا چاہئے، کیونکہ مشروط مذاکرات کا کوئی معنی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قانون واپس نہ لئے گئے تو مشتعل کسان بھی وطن واپس نہیں جائیں گے۔زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ آگے کا راستہ کیا ہوگا؟کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت ہم سے بات کرنا چاہتی ہے اور ہم سے تاریخ اور امور کے بارے میں پوچھ رہی ہے، ہم نے 29 دسمبر کو مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے۔
اب حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کب ہمیں بات چیت کے لئے بلاتی ہے، ہم کہتے ہیں کہ تینوں زرعی قوانین سے دستبرداری کے طریق کار اور کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی گارنٹی کے معاملے کو حکومت سے مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جانا چاہئے، ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت کو ضد والارویہ چھوڑنا چاہئے، کیونکہ مشروط مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں ہے،جب تک قانو واپس نہیں، گھرواپسی نہیں۔